!افغان لڑنے والے جبکہ کشمیری مار کھانےوالے ہیں

افغان لڑنے والے جبکہ کشمیری مار کھانےوالے ہیں!

قابلِ غور کڑوا سچ۔۔۔۔۔

افغان مجاہدین نے کیسے دس سال میں روس کو شکست دے کر ٹکڑوں میں تبدیل کرڈالا ۔
اور انیس سال میں دنیا کی جدید ترین اسلحے سے لیس واحد سپر پاور امریکہ کو چوالیس ممالک کی افواج سمیت شکست فاش دے کر زخم چاٹنے پر مجبور کرڈالا ۔

اور کشمیری گزشتہ ستر سال آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن کہیں دور تک اس کے اثرات نظر نہیں آرہے ۔

ایک طرف افغان مجاہدین کیسے کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں تو دوسری طرف کشمیری کیوں ناکام و نامراد ہیں ۔

دراصل دونوں کے طرزجہاد میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔

کشمیری گزشتہ ستر سال سے ہڑتالیں کررہے ہیں ۔ احتجاج کررہے ہیں ۔ مظاہرے کررہے ہیں ۔ انڈین حکمرانوں کے پتلے نظر آتش کررہے ہیں ۔ تو کبھی انڈیا کے پرچم کو ۔
آئے دن اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں ۔ اپنے تعلیمی ادارے سکول کالج یونیوسٹیاں بند کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔

اقوام متحدہ کے دفتر میں اپنی قرادادیں جمع کرواتے رہتے ہیں ۔ کبھی اوآئی سی کو پکارتے ہیں ۔ کبھی پاکستان کو تو کبھی امریکہ سمیت دنیا کے کسی ملک کو دہائی دیتے ہیں کبھی کسی کو ۔ لیکن سنتا کوئی نہیں ۔ کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو کبھی کسی سے شکوہ شکایت کرتے ہیں ۔

کبھی کشمیر کی حریت قیادت روتی پیٹتی چیختی چلاتی ہے تو کبھی کشمیر کی خواتین بہنیں بیٹیاں بین کرتی نظر آتی ہیں ۔

لیکن مجال ہے دنیا میں کسی کے کانوں تک جوں بھی رینگتی ہوئی نظر آتی ہو ۔ کسی کو کشمیر میں ترپتی لاشوں اجڑتے سہاگوں یتیم ہوتے بچوں کھنڈر بنتے گھروں کی پریشانی ہوتی ہو ۔

وجہ کیا ہے ان کی کوئی کیوں نہیں سنتا ؟

افغان مجاہدین کیسے روس و امریکہ کو شکست دینے کے بعد آج دنیا کی پہلی بڑی لڑاکا قوت بن چکے ہیں ۔
کیوں کہ
انہوں نے کبھی اقوام متحدہ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا ۔
انہوں نے کبھی او آئی سی کو درخواست نہیں دی ۔
انہوں نے کبھی مسلم ممالک سے مدد کی اپیل نہیں کی ۔

وہ نہ کسی کے آگے جھکے نہ گڑگڑائے ۔
نہ انہوں نے کبھی احتجاج کیا نہ ریلیاں نکالیں ۔
نہ کبھی ہڑتالیں کیں ۔ اور نہ کبھی اپنا کاروبار بندکرکے اپنی روٹی روزی بند کی ۔
نہ کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا نہ کسی کو دہائی دی ۔
پھر وجہ کیا افغان مجاہدین کامیاب ہوجاتے ہیں اور کشمیری ناکام ۔

افغانیوں نے جب بھی ہاتھ اٹھایا تو اپنے رب کے آگے ۔
جب بھی روئے گڑگڑائے تو اپنے خدا کے آگے ۔
جب بھی مدر کے لیے پکارا تو اپنے اللہ کو ۔
اپنی مصیبتوں تکلیفوں پریشانیوں کا جب بھی ذکر کیا تو اپنے مشکل کشاء حاجت روا ایک رحمٰن و رحیم ذات باری تعالی کو ۔

وہ دیکھتے ہیں تو اس مہربان خدا کی کتاب قرآن کو ۔ پھر انہیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔ پھر جو قران میں ان کا رب ان کو نصیحت کرتا ہے یہ وہی کرتے ہیں ۔

تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ اور تم تو غالب ہو۔ اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا ۔
سورہ محمد
آگے فرمایا ۔

جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا ۔

(سورہ محمد)

جبکہ دیکھا جائے تو افغانستان میں مسلمانوں کی تعداد کشمیر میں بسنے والوں سے زیادہ نہیں ۔ لیکن افغان لڑنے والے اور کشمیری مار کھانے والے ہیں جو گزشتہ ستر سال سے مار کھارہے ہیں ۔ کشمیر کا جہاد بھی پاکستان سے جانے والے مجاہدین ہی لڑتے رہے اور جب ان کا داخلہ کشمیر میں بندکردیا گیا ۔ کشمیری پھر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گے ۔ انڈین آرمی روزانہ دس سے پندرہ کشمیری شہید کردیتی ہے لیکن مجال ہے یہ انڈین آرمی پر حملوں کی کوئی پلاننگ کریں ۔ کشمیر کا واحد مجاہد برہان الدین وانی ہے ۔
جسکی وجہ سے پورے کشمیر اور انڈیا میں تہلکہ مچ گیا اکیلے برہان وانی نے انڈین آرمی کو ناکوں چنے چبوائے. صرف ایک برہان وانی نے پورے انڈیا کو پریشان کر کے رکھ دیا.
جو انڈین آرمی سے لڑتا ہوا شہید ہوا . جو آج عظیم لیڈر کا مرتبہ رکھتا ہے ۔ باقی سب مظاہروں میں گھروں میں یا جیلوں میں شہید کردیئے گے ۔

اگر کشمیری چاھتے ہیں کہ کشمیر آزاد ہوجائے تو ۔
جلسے جلوس ہڑتالیں اور مظاہرے ختم کریں ۔
اقوام متحدہ اور اوآئی سی یا دیگر مسلم ممالک سے امیدیں لگانے کی بجائے اپنے رب سے تعلق قائم کریں ۔ اسی سے امیدیں لگائیں ۔
اور اللہ کا نام لےکر ہر گلی محلے سے صرف ایک فرد نکلے ۔ زیادہ نہیں ۔ برہان وانی کی طرز پر جہاد کریں.
اور صرف ایک بھارتی فوجی کو قتل کرنے کا ٹارگٹ لےکر نکلے زیادہ نہیں ۔

آپ دیکھیں گے کہ کتنی جلدی کشمیر آزاد ہوتا ہے ۔
اور اگر چاھتے ہیں کہ جلدی آزاد ہوجائے تو کشمیر کو خیرآباد کہہ کر پورے بھارت میں پھیل جائیں ۔ جیسے ہی پورے بھارت میں انڈین آرمی پر حملے شروع ہوجائیں گے تو یہ بہت جلد کشمیر کو چھوڑ دیں گے ۔

گزشتہ ستر سال میں انڈین آرمی نے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید کردیے ہیں ۔ اگر ان میں سے ہر کشمیری ایک بھارتی فوجی قتل کرکے شہید ہوتا تو آج کشمیر آزاد ہوتا ۔
اب یہ فکر نہ کرنے لگ جانا کہ اسلحہ کہاں سے آئے گا، اگر افغانی مجاہدین اور برہان وانی کو وافر مقدار میں اسلحہ دستیاب رہا تو کشمیریوں کو بھی ضرور ملے گا لیکن وہ پہلے جہاد کا مصمم ارادہ کر کے نکلیں تو سہی.
ایک بات یاد رکھیں چاہے جتنے مرضی پتھر مار لیں انڈین آرمی کو، صرف پتھروں سے انڈیا کشمیر چھوڑ کر کبھی نہیں جائے گا – بندوق اٹھانی پڑے گی.
ہندو مکار ضرور ہے مگر بہادر نہیں. مقبوضہ کشمیر کی کل آبادی کے صرف دس فیصد نوجوان بھی برہان وانی بن جائیں تو کشمیر کی آزادی یقینی ہو گی انشاءاللہ.
کشمیری جان لیں کہ یہ آزادی کی جنگ انکی اپنی ہے جو انکو خود ہی لڑنی پڑے گی. اقوام متحدہ، او آئی سی، عرب ممالک وغیرہ وغیرہ سے امیدیں لگانا فضول ہے انہوں آج تک کبھی کسی قوم کو آزادی لے کر نہیں دی. تاریخ گواہ ہے دنیا میں جتنی قومیں بھی آزاد ہوئیں انہوں نے بندوق اٹھا کر آزادی چھین کر حاصل کی.

پلاننگ کیجیے ۔
بس ایک بھارتی فوجی کو قتل کرنے کی ۔ اور اپنی تحریک کو آزادی کے بجائے قرآن و سنت کے نفاذ کی تحریک بناکرشروع کریں پھر دیکھیں اللہ کی مدد کیسے اور کہاں کہاں سے آتی ہے ۔

شیئر کیجیے تاکہ مقبوضہ کشمیر تک پہنچ جائے ۔