زیر زمین آبی وسائل کا استحصال

زیر زمین آبی وسائل کا استحصال

زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں کمی کا شور تو سنتے ہیں لیکن کبھی اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی؟ کیوں ہماری پانی والی موٹریں کام کرنا چھوڑ جاتی ہیں اور پھر ہمیں پانی حاصل کرنے کیلئے ذیادہ گہرا بور کروانا پڑتا ہے؟ جس گھر میں پہلے چالیس فٹ بور والا ہینڈپمپ یا نلکا بہترین کام کرتا تھا وہاں کیوں اب اڑھائی سو فٹ پہ بھی پانی نہیں مل رہا؟

اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہم جتنا پانی زمین سے لے کر استعمال کر رہے ہیں، اسے اتنا پانی واپس نہیں کر رہے، یعنی ہمارے زیر زمین پانی کے ذخائر ری چارج نہیں ہو رہے۔

زیر زمین پانی کے ذخائر ری چارج کیسے ہوتے ہیں؟ بارش سے اور ہمارے استعمال شدہ پانی سے (اگر ہم وہ پانی زمین کو واپس کریں تو)

ہزاروں سال تو یہ ذخائر ری چارج ہوتے رہے، اب کیوں نہیں ہو رہے؟ کیونکہ بارش اور دیگر استعمال شدہ پانی کے زمین میں جانے کا قدرتی راستہ (کچی زمین) کو ہم نے سیمنٹ، تارکول اور کنکریٹ سے بند کر دیا ہے، وہ پانی جو زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھتا تھا اسے اب واپس زمین میں جانے کا راستہ نہیں ملتا اور ہم اسے نالیوں میں بہا دیتے ہیں۔

بڑی شہری آبادیوں میں اگر ہم سب اپنے اپنے گھر کا کچھ حصہ باغیچے کیلئے چھوڑ دیں یا میونسپل کارپوریشنز پارکوں base lines وغیرہ میں بور کر کے بارش کے پانی کو زیر زمین جذب کرنے کا اہتمام کرے تو نہ صرف یہ کہ اندرون شہر زیر زمین پانی کا لیول build-up ہو گا بلکہ باغیچوں اور پارکوں کی کچی زمین بارش کے پانی کو زیر زمین جذب کر کے ہمیں شجرکاری تازہ پھل اور سبزیاں بھی فراہم کرے گی۔ لہذا اس نام نہاد ترقی (سیمنٹ سریے اور ماربل کے پہاڑ کھڑے کرنا) کے خول سے باہر آئیں اور حقیقی ترقی اپنائیں یعنی rain water harvest کر کے زیر زمین ڈیمز تعمیر کریں۔